Search This Blog

Thursday, 13 July 2023

مدینہ جانا



مدینہ، اسلامی دنیا کا ایک مقدس مقام ہے، جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری دن گزارا۔ کیا پاویترا شہر کو دیکھنے کا سپنا میرے دل میں بچپن سے ہے؟ اور ایک دن، میری دعا کا اثر ہوا اور مین مدینہ یاترا کے لیے طیار ہو گیا۔
میرا سفر ریاض سے شورو ہوا، جہاں سے مین مدینہ کی تراف نکلا۔ سفر کا پہلا نظر تھا مسجد قبا، جو دنیا کی پہلی مسجد ہے، جس سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خود بنوایا تھا۔ وہان کی سکھون بھری محل نہ میرے اندر ایک انوکھ سکھون بھر دیا

مدینہ پڑھتے ہی میری آنکھوں میں خوشی سے چمک اٹھی۔ میری پہلی منزل تھی مسجد نبوی، جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دفنائے گئے ہیں۔ وہاں کا نظر، ہمیں پاکیتر کھڑکی کے پیش، جہاں سے آپ (S.A.W.) نماز پڑھتے ہیں، میرے دل کو چھو گیا میں اور میری فیملی آپ (ص) کی قبر انور پر درود و سلام پڑھنے کے بعد، مسجد نبوی کے اندر پرویش کیا۔ مسجد نبوی کے اندر کا درشیا دل کو چھو گیا وہان کی خوشبو، وہان کی آرام دہ سوچ، اور آپ (S.A.W.) کے محسوس ہونا نہ میرے اندر ایک انوکھی شانتی کا احساس کرایا۔ میں اور میری فیملی روزانہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد نبوی آتے ہیں اور وہاں کی برکتوں سے نہیں بھاگتے۔
مدینہ کی یاترا میں دورے زروری اسٹال بھی شامل ہو ایک تھا احد پہاڑی، جہاں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ وہان پر انکی قبر دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آئے۔ دسرہ تھا قبلتین مسجد، جہاں نماز کی قبلہ بدل گئی تھی. ہماری مسجد کی دیواروں پر قرآن کی آیات کی تلاوات سننے کا تجربہ ہے۔

مدینہ یاترا کے دور میں کائی اعتقاد جگائیں بھی دیکھی۔ جیسا کہ قاسم بن محمد (رضی اللہ عنہ) کی کبر، جہاں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیٹے کی موت ہوئی تھی۔ وہن پر آپ (S.A.W.) نے کہا تھا کی "دنیا میں کوئی بھی انسان ہمیں موت کے لیے روئے، پر آج تو سارے مدینہ رو رہا ہے۔" کیا وکیے نے مجھے سمجھایا کی مدینہ کا مہاتوا کیا ہے؟

اسکے الوا، مدینہ میں گھومنے کا آنند لے ہوئے ہیں میں کی اچی اور لعیز پکوان بھی کھائی۔ جیسے کی مدینہ کی مشہور ڈش 'منڈی'، جیسے کھنے کے بعد میرا مہ سواد سے بھر گیا اور وہاں کی مارکیٹوں میں شاپنگ کرنے کا آنند بھی الگ تھا۔ وہان پر مین کائی سووینئرز اور اسلامی نوادرات کھریدے۔

مدینہ یاترا کا آخری دن آیا اور میں ریاض واپس لوٹ گیا، میرے دل میں مدینہ کی یادیں اب بھی تجازہ ہے۔ سفر کے دور میں اپنے ایمان کو مجبوتی محسوس کیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں پر غور کیا میں ہر روز آپ (S.A.W.) کی زیارت کرنے کی دعا کرتا ہوں اور انکے درمیان سے اپنی زندگی میں ہدایت پاتا ہوں۔

مدینہ یاترا نے مجھے اپنے آپ کو اور اپنے ایمان کو سمجھ دیا ہے۔ وہان کی پاکیزہ ہوا، سکھ زمین، اور آپ (S.A.W.) کی محبت اور مجھ سے ایک نئی روشن پردان کی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہر مسلمان کو مدینہ کی زیارت کا موکا میل اور وہ بھی ہے پاکیترا شہر کی خوشبو میں دوبہ کر آئے۔

مدینہ یاترا کا تجربہ لفزون میں بیان کرنا مشکل ہے۔ پر یہ یاترا میری زندگی کا ایک ساکراتمک موڈ راہی ہے۔ میں مدینہ کا آنند اور سکھوں کبھی نہیں بھول سکتا اور ہمیشہ ہم پاویترا اسٹال کی یادوں میں کھوجاتا ہوں ۔ مدینہ، میرے لیے خدا کا ایک تحفہ ہے، جیسے میرے دل میں صدائیو رکھونگ

No comments:

Post a Comment

شوق مدین جوان دا

  اگر "شوق مدین جوان دا" سے مراد کسی خاص کھانے یا ریستوراں کی کسی مینو آئٹم یا ڈش کا ہے، تو میں معذرت خواہ ہوں، لیکن میرے پاس اس ک...